سورة یونس - آیت 34

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) ان سے پوچھو : کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو خلقت کی پیدائش شروع کرے اور پھر اسے دہرائے؟ تم کہو یہ تو اللہ ہے جو ابتدا میں پیدا کرتا ہے پھر اسے دہرائے گا، پس غور کرو تمہاری الٹی چال تمہیں کدھر کو لے جارہی ہے؟

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ توحید کے دلائل اور مشرکین سے سوالات جاری ہیں۔ اب باطل معبودوں کے بارے میں براہ راست پوچھا جارہا ہے کہ تمہارے معبودان باطل میں سے کون ہے جس نے ابتدا میں اس کائنات کو پیدا کیا اور پھر اسے دوبارہ وجود بخشے گا؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں تھا اور ہمیشہ اس کا جواب نفی میں ہی رہے گا۔ لہٰذا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ بےدھڑک فرمائیں کہ اللہ ہی نے انھیں پہلی مرتبہ بغیر نمونے کے پیدا فرمایا اور وہی دوبارہ انھیں پیدا کرے گا۔ جب اللہ تعالیٰ کو ان کا خالق اور دوبارہ پیدا کرنے والا مانتے ہو تو پھر کہاں بھٹکے پھرتے ہو؟ جب پیدا کرنے والا اور تمہیں اپنے ہاں لوٹانے والا بھی ایک اللہ ہی ہے۔ پھر تمہارے معبودان باطل کہاں سے آٹپکے اور ان کا کیا اختیار ہے۔ جس بنا پر تم انہیں حاجت روا، مشکل کشا اور داتا و دستگیر کہتے ہو۔ مزید برآں سوال یہ ہے کہ تمہارے معبودوں میں کوئی ہے جو تمہاری حق کی طرف راہنمائی کرسکے۔ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ پتھر، مٹی اور لکڑی کے بت ہدایت کی راہنمائی نہیں کرسکتے۔ نہ فرشتے اور جنات اور نہ ہی سورج، چاند، ستارے ہدایت کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔ جہاں تک انبیاء اور اولیاء کا تعلقہے۔ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی تو کرسکتے ہیں مگر کسی کو ہدایت پر گامزن نہیں کرسکتے۔ جب وہ فوت ہوگئے تو ان کا تعلق دنیا سے ٹوٹ گیا۔ اب وہ بھی کسی کی رہنمائی اور مدد نہیں کرسکتے۔ لہٰذا صرف اللہ ہی ہے جو ہدایت کی رہنمائی