سورة یونس - آیت 21

وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌ فِي آيَاتِنَا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو درد دکھ کے بعد اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فورا ہماری (رحمت کی) نشانیوں میں باریک باریک حیلے نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ (اے پیغمبر) تم کہہ دو اللہ ان باریکیوں میں سب سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری یہ ساری مکاریاں قلمبند کر رہے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے انہیں آگاہ کیا کہ جس خبط میں تم مبتلا ہو وہ عذاب ہی تو ہے۔ اہل مکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرنے کی بجائے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اس کا اشارتًا جواب دیا گیا ہے کہ جس قحط سالی میں تم مبتلا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر عذاب نہیں تو کیا ہے؟ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اہل مکہ کی ایذارسانیوں اور ان کے بار بار مطالبہ کی وجہ سے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ بددعا کی کہ اے رب ذوالجلال ان پر ایسا قحط نازل فرما جس طرح تو نے یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قوم مصر پر نازل کیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آپ نے بددعا مکہ میں رہتے ہوئے کی تھی یا مدینہ جاکر۔ حالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ پر یہ عذاب اس وقت مسلط ہوا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے۔ اہل مکہ پر عذاب مسلط ہوا تو وہ اس قدر تنگ ہوئے کہ بڑے بڑے مالدار گھرانے بھی مردار کھانے اور سوکھا چمڑا چبانے پر مجبور ہوئے۔ بالآخر بے بس ہو کر ابو سفیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ آپ لوگوں کے ساتھ مہربانی اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور ہمارے لیے بارش کی دعا کریں۔ تب آپ نے اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے جس کے نتیجہ میں مکہ اور اس کے گردونواح میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ اور پورا علاقہ سرسبز و شاداب ہوا۔ بدحالی خوشحالی میں تبدیل ہوگئی۔ مگر جوں ہی مکہ والوں کے حالات بدلے تو انہوں نے مزید سازشیں شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے کہنے لگے کہ ہمارے معبود کچھ مدت کے لیے ہم پر ناراض ہوئے تھے اب انہوں نے راضی ہو کر ہماری بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کردیا ہے۔ اس پر انہیں انتباہ کیا جارہا ہے کہ تم جو کچھ کہتے اور کرتے ہو انہیں ہمارے ملائکہ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے مکرو فریب کا جواب دے گا۔ جب مکر کا لفظ لوگوں کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی مکرو فریب اور سازش و شرارت ہوا کرتا ہے۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی منصوبہ یا عذاب ہوتا ہے۔ یہاں مکر سے مراداللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ جس کی دنیا میں کئی شکلیں ہوا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ اور مامون فرمائے۔ آمین (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ کَانَ مِنْ دُعَآءِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِےَتِکَ وَفُجَآءَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِےْعِ سَخَطِکَ)[ رواہ مسلم : باب أَکْثَرُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ الْفُقَرَاءُ وَأَکْثَرُ أَہْلِ النَّار النِّسَاءُ وَبَیَانُ الْفِتْنَۃِ بالنِّسَاءِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعا ہوا کرتی تھی۔ بارالٰہا! میں تیری نعمتوں کے زوال‘ تیری عافیت کے پھرجانے‘ تیرے اچانک عذاب اور تیری ہر طرح کی ناراضگی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔“ مسائل ١۔ اللہ کی رحمت سے ہمکنار ہونے کے بعد اکثر انسان کفر و شرک کرتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بہتر تدبیر نہیں کرسکتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہونے والے ملائکہ ہر چیز لکھ رہے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ہر شخص کا اعمال نامہ اللہ کے ہاں درج ہے : ١۔ بے شک تمہاری چال بازیوں کو ہمارے قاصد لکھ رہے ہیں۔ (یونس : ٢١) ٢۔ ہم ان کی جزا لکھ لیں گے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٦) ٣۔ ہم لکھ لیتے ہیں جو لوگ بولتے ہیں۔ (آل عمران : ١٨١) ٤۔ ہم ان کی کہی ہوئی بات لکھ لیں گے اور ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے گا۔ (مریم : ٧٩) ٥۔ ہمارے قاصد ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ (الزخرف : ٨٠) ٦۔ کسی کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی بے شک ہم اس کو لکھ لیں گے۔ (الانبیاء : ٩٤)