سورة التوبہ - آیت 38

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے اللہ کی راہ میں قدم اٹھاؤ تو تمہارے پاؤں بوجھ ہو کر زمین پکڑ لیتے ہیں کیا آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کی زندگی ہی پر ریجھ گئے ہو؟ (اگر ایسا ہی ہے) تو (یاد رکھو) دنیا کی زندگی کی متاع تو آخرت کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے مگر بہت تھوڑی۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز، جہاد کی تحریص۔ اس سورۃ کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ اور اس کے متعلقات ہیں لہٰذا قتال فی سبیل اللہ کا خطاب پھر شروع ہوتا ہے۔ اس خطاب کا پس منظر اور شان نزول یہ ہے کہ جب مکہ فتح ہوا اور سرزمین حجاز کے بڑے بڑے قبائل بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو مدینہ سے دور دراز کے لوگوں کے سامنے اسلام کی حقانیت واضح ہونے لگی۔ جس بنا پر شام، روم اور دیگر ممالک کے لوگوں نے مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور دین اسلام کی روشن تعلیمات کی طرف توجہ دینا شروع کی۔ جس سے ان ممالک کے حکمرانوں کو شدید خطرہ محسوس ہوا۔ خاص کر اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی قوت سلطنت رومہ نے محسوس کیا کہ اسلام کی پیش قدمی کو روکنا چاہیے۔ چنانچہ روم کے فرمانروا ہرقل نے مملکت اسلامیہ پر حملہ کرنے کی سرگرمیاں تیز کردیں۔ ان کی سرگرمیوں کو دیکھ کر مدینہ کے منافق بھی پھر سے حوصلہ پکڑنے لگے۔ اس صورتحال پر قابو پانے اور رومیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ رومیوں کو پیش قدمی کا موقعہ دینے کی بجائے ان کے گھر جا کر سبق سکھانا چاہیے اس کے لیے آپ نے خلاف معمول ایک مہینہ پہلے رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا حالانکہ اس سے پہلے آپ جہاد کے لیے توریہ کی پالیسی اختیار کیا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اگر مدینہ کے شمال کی طرف پیش قدمی کرنا ہوتی تو آپ جنوب کے علاقے کی باتیں کرتے تاکہ مدینہ کے منافق اور دیگر لوگ دشمن کو خبردار نہ کردیں لیکن اس مرتبہ آپ نے دو ٹوک الفاظ میں رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب فصلیں کٹنے پہ آئی ہوئی تھیں اور دوسری طرف گرمی کا عالم یہ تھا کہ گھر سے باہر نکلتے وقت آدمی کا چہرہ جھلس جاتا تھا۔ حالانکہ دشمن کے خلاف جنگ کے وقت کا تعین کرتے ہوئے موسم اور قوم کے داخلی حالات کو ہمیشہ مد نظر رکھا جاتا ہے لیکن حالات تاخیر کی اجازت نہیں دیتے تھے جس بنا پر آپ نے کھلی جنگ کا اعلان کیا ان حالات میں اس جنگ کو کچھ صحابہ اپنے آپ پر بوجھ محسوس کرنے لگے۔ اس اعصابی دباؤ اور ذہنی بوجھ کو دور کرنے کے لیے خطاب کا انداز ایسا اختیار کیا گیا جو پہلے کسی غزوۂ کے لیے اختیار نہیں کیا چنانچہ حکم ہوا کہ اے مسلمانو ! تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمھیں اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین کے ساتھ چمٹے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا پر راضی ہوئے جا رہے ہو۔ یاد کرو کہ دنیا کے مال و اسباب کی آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ؟ دنیا کی زندگی نہایت مختصر اور اس کا سامان ناپائیدار اور معمولی ہے اس کے باوجود اگر تم نے دنیا کو مقدم جانا اور اللہ کے راستے میں نکلنے سے فرار اختیار کیا تو پھر اللہ تعالیٰ تمھیں اذیت ناک عذاب دے گا۔ تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔ پھرتم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس انتباہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب جہاد کا اعلان عام ہوجائے تو پھر کسی فرد کو پیچھے رہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی جہاد فرض کفایہ کے بجائے فرض عین ہوجایا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں جو مسلمان پیچھے رہے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دینے کا اعلان کرتا ہے۔ عام طور پر دنیا کی سزا دشمن کے ہاتھوں ہوا کرتی ہے کیونکہ دشمن کے مقابلے میں نہ نکلنے والی قوم ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِذَا تَبَایَعْتُمْ بالْعِینَۃِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِیتُمْ بالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِہَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعُہُ حَتّٰی تَرْجِعُوا إِلٰی دینِکُمْ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب البیوع، باب فی النہی عن العینۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں جب تم تجارت عینہ کیا کرو گے گاۓ کی دم کو پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو کر جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا۔ وہ اس وقت تک تم پر مسلط رہے گی جب تک تم واپس دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے۔“ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ الْقَانِتِ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَلَا صَلٰوۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔) [ متفق علیہ] حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‘ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اس شخص کی طرح ہے‘ جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور ہمہ وقت حالت قیام میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حتّٰی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد واپس لوٹ آئے۔ مسائل ١۔ جب جہاد کا اعلان ہو تو اس پر لبیک کہنا چاہیے۔ ٢۔ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے وعید ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں کو دردناک عذاب ہوگا : ١۔ منافقوں کے دلوں میں بیماری ہے۔ ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ: ٧) ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ: ١٠٤) ٣۔ اللہ کی آیات چھپانے اور فروخت کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ: ١٧٤) ٤۔ زیادتی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ: ١٧٨) ٥۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر۔ انبیاء کو قتل کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ٢١) ٦۔ اللہ کے عہد اور قسموں کو فروخت کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ٧٧) ٧۔ ایمان کے بدلے کفر کو خریدنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ١٧٧) ٨۔ اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ١٨٧ )