سورة الاعراف - آیت 184

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا؟ ان کے رفیق کو (یعنی پیغمبر اسلام کو جو انہی میں پیدا ہوا اور جس کی زندگی کی ہر بات ان کے سامنے ہے) کچھ دیوانگی تو ہیں لگ گئی ہے (کہ خواہ مخواہ ایک بات کے پیچھے پڑ کر سب کو اپنا دشمن بنا لے) وہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ (انکار و بدعملی کی پاداش سے) کھلے طور پر خبردار کردینے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : (آیت 184 سے 186) ربط کلام : نبی معظم (ﷺ) جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے اور بتلاتے تو وہ دیگر الزامات کے ساتھ آپ کو مجنوں اور پاگل کہتے تھے جس کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار نبی محترم (ﷺ) کو درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر مجنون کہتے تھے۔ 1۔ ایک الٰہ تمام لوگوں کی مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے۔ 2۔ کفار کا کہنا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا کب انکار کرتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ہمارے معبودوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ 3۔ نبی اس لیے مجنون ہے کہ توحید کے سوا کوئی اور بات نہیں کرتا۔ ہر وقت توحید، توحید کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ 4۔ معاشرہ اور برادری میں اس کا بڑا مقام اور احترام تھا مگر اس نے اپنے مقام اور احترام کو برباد کرلیا ہے۔ 5۔ ہم نے اسے ہر قسم کی مراعات کی پیشکش کی ہے لیکن یہ جنونیوں کی طرح ایک ہی بات کہے جارہا ہے۔ 6۔ کفار نبی اکرم (ﷺ) کو مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر عوام میں مجنون کہتے تھے۔ لیکن ذاتی طور پر پوری دیانت داری سے سمجھتے تھے کہ آپ انتہائی ذہین، دانشور اور صاحب بصیرت انسان ہیں۔ جس کا تجربہ انھوں نے قومی سطح پر اس وقت کیا تھا۔ جب آپ کی عمر مبارک 35سال کی تھی۔ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حجر اسود رکھنے پر اہل مکہ کے درمیان کشت و خون کی نوبت پیدا ہوچکی تھی۔ آپ نے انتہائی پر آشوب حالات اور جذباتی فضا میں ایسا فیصلہ فرمایا کہ آپ کی ذہانت کے نہ صرف اہل مکہ قائل ہوئے بلکہ پورے حجاز میں آپ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ آپ کی 63سالہ زندگی میں بدترین دشمن بھی کسی ایک کام یا بات کی نشاندہی نہ کرسکے۔ جس وجہ سے آپ کو معمولی عقل رکھنے والا انسان کہا جا سکے۔ ان حقائق کی بنیاد پر سورۃ سباء آیت 46میں کفار کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ دو دو اور ایک ایک ہو کر سوچو! کہ کیا اس نبی کو کوئی جنون ہے۔ یہ تو صرف اس لیے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے لہٰذا آپ کھلے الفاظ میں لوگوں کو ڈرانے والے ہیں۔ جس عقیدۂ توحید کی بناء پر تم اس رسول کو پاگل کہتے ہو بتاؤ کبھی تم نے زمین و آسمان کے انتظام و انصرام اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان پیدا کیا اس پر غور کیا ؟ کیا نظام قدرت میں کسی اعتبار سے بھی کسی کا عمل دخل ہے ؟ اور کبھی سوچا کہ اس نظام کے خاتمہ کا وقت کتنا قریب آلگا ہے، یہ اشارہ فرما کر توحید کے منکروں کو قیامت برپا ہونے کا احساس دلاکر فرمایا ہے کہ مزید کونسی دلیل ہوگی جس پر تم ایمان لاؤ گے۔ دراصل جسے اللہ تعالیٰ اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ انھیں ان کے گناہوں میں اس لیے چھوڑا جا رہا ہے تاکہ یہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہیں۔ مسائل : 1۔ رسول لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے آتا ہے۔ 2۔ عقیدۂ توحید کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ کی مخلوق پر غور و خوض کرے۔ 3۔ آدمی کو اپنی موت سے پہلے اپنا عقیدہ اور اعمال درست کرلینے چاہییں۔ 4۔ جس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ 5۔ گمراہ شخص ہر وقت اپنے گناہوں میں پریشان رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : نبی (ﷺ) کی داعیانہ حیثیت : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو حق دے کر بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (البقرۃ:119) 2۔ آپ (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے دین کے داعی اور روشن چراغ ہیں۔ (الاحزاب :46) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو شاہد، بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب :45) 4۔ آپ (ﷺ) کو اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا :28) 5۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء :107)