سورة الاعراف - آیت 175

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کو اس آدمی کا حال (کلام الہی میں) پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھی (یعنی دلائل حق کی سمجھ عطا کی تھی) لیکن پھر ایسا ہوا کہ اس نے (دانش و فہم کا) وہ جامہ اتار دیا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگا، نتیجہ یہ نکلا کہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان فرمائیں جس کو ہم نے علم کے زیور سے آراستہ فرمایا تھا مگر اس نے اس زیور کو اتار پھینکا اور شیطان کی اتباع کرتے ہوئے گمراہ لوگوں میں شمار ہوا یہ کس شخص کا واقعہ ہے، کہاں کا رہنے والا تھا اور اس کا نام کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی مقدس دستاویزات میں اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اکثر مفسرین نے صحابہ کرام ] کے اقوال نقل کیے ہیں جن کی بنیاد اسرائیلی روایات پر ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں : اس شخص کا نام بلعم بن بعور یا امیہ بن صلت تھا۔ یہ یہودیوں کا بڑا عالم تھا لیکن انتہائی ضمیر فروش ہونے کی وجہ سے فتویٰ فروشی اور دین کو ایک پیشہ اور دکھلاوے کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اس سے مراد کوئی شخص ہو اصل تو ایک کردار کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے مالا مال کیا مگر اس نے اسے منصب کے حصول، دنیا کے لالچ، ذاتی شہرت اور شخصی احترام کے لیے استعمال کیا جو سراسر شیطان کی پیروی کا راستہ ہے اور شیطان انسان کو گمراہ کرکے چھوڑتا ہے۔ اس نام نہاد عالم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا اور وہ بالآخر گمراہوں میں شمار ہوا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو اسے اپنے عطا کردہ علم کے ساتھ فکر کی بلندی اور کردار کی رفعت عطا کرتے۔ لیکن اس نے اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے رفعت و بلندی کے بجائے زمین کے ساتھ چمٹنا پسند کرلیا ہے یہاں زمین کے ساتھ چمٹنے سے مراد فکر و کردار کی پستی اور دنیا کی طرف مائل ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ انسان کو ہدایت اور گمراہی کے راستے کی نشاندہی کرکے کھلا چھوڑ دیا جائے تاکہ انسان جس راستہ کو پسند کرتا ہے اسے اختیار کرسکے۔ علم کا بنیادی مقصد اس کے ذریعے رہنمائی پانا ہے اگر کوئی شخص صاحب علم ہو کر بھی جہالت اور گمراہی کے راستہ کو پسند کرتا ہے تو اسے ہدایت پر کیوں کر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ایسے علم والے کی مثال تو اس کتے کی ہے جس پر حملہ کیا جائے یا نہ کیا جائے اور اس پر بوجھ ڈالا جائے یا نہ ڈالا جائے وہ ہر صورت زبان لٹکائے ہانپتا پھرتا ہے۔ کتے کو دیکھنے والا اس بات کا اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ کتا سدھایا ہوا ہو یا آوارہ، سردی ہو یا گرمی، بھوکا ہو یا اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ وہ ہر وقت ہانپتا ہے اور چلتے پھرتے زمین سونگھتا اور جگہ جگہ اپنی زبان مارتا پھرتا ہے۔ یہ ایسا جانور ہے جو کبھی سیر چشم نہیں ہوتا یہاں تک کہ اگر آپ اسے پتھر ماریں تو وہ اسے بھی چاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ اتنا بد خصلت اور لالچی جانور ہونے کے باوجود اپنے مالک کا وفادار اور سدھایا ہوا کتا اپنے آقا کے حکم پر عمل کرتا ہے۔ لیکن ایک دنیا پرست عالم کا حال اس سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ اقبال کے بجائے زوال اور استغنا کے بجائے بھوک اور لالچ میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ ایسے علماء پکار اٹھتے ہیں کہ واقعی ہم نے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال لیا ہے اور ہم اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یہاں بین السطور یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ذیادتی نہیں کی اگر یہ ہدایت کے طالب ہوتے تو انھیں ہدایت دی جاتی لیکن یہ ہدایت کے بجائے گمراہی کے طالب ہوئے اس لیے انھیں گمراہ ہی رہنے دیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا ئنات کے چپے چپے اور ذرے ذرے کا مالک ہے اسی طرح ہدایت اور گمراہی بھی اپنی ملکیت قرار دے کر اسے اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ لہٰذا گمراہ لوگ نقصان ہی اٹھائیں گے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے رہنمائی نہ پانے والا شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ ٢۔ شیطان انسان کو گمراہ کرکے چھوڑتا ہے۔ ٣۔ دین کے بدلے دنیا پسند کرنے والا عالم کتے کی مانند ہے۔ ٤۔ کتا نہایت ہی حریص جانور ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اعتصام بالکتاب کا حکم : ١۔ اللہ کی رسی کے ساتھ اعتصام کا حکم۔ (آل عمران : ١٠٣) ٢۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتصام کرنا ہے۔ (النساء : ١٤٦) ٣۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے احکام ماننا اللہ سے اعتصام کرنا ہے۔ (النساء : ١٧٦) ٤۔ جو نیکی کے کام کرے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتصام کرے اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔ (الحج : ٧٨) نفسانی خواہش کی پیروی کے نقصانات : ١۔ جس نے اپنی خواہش کو رب بنالیا ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں؟ (الفرقان : ٤٣) ٢۔ اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے۔ (الکہف : ٢٨) ٣۔ قیامت کا منکر اپنے نفس کا بندہ ہوتا ہے اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ (طٰہٰ: ١٦) ٤۔ جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی وہ گمراہ ہوا۔ (القصص : ٥٠) ٥۔ ظالم اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ (الروم : ٢٩)