سورة الاعراف - آیت 154

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى الْغَضَبُ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ ۖ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب موسیٰ کی خشم ناکی فرو ہوئی تو اس نے تختیاں اٹھا لیں، ان کی کتابت میں (یعنی ان حکموں میں جو ان پر لکھتے ہوئے تھے) ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے پروردگار کا ڈر رکھتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو انھوں نے تورات کی تختیوں کو سنبھالا جو ہدایت کا منبع اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سرچشمہ تھیں۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے جلوت اور خلوت میں ڈرنے والے ہیں۔ یہاں تورات کے دو اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر آسمانی کتاب کا وصف رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب بھی انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمائی وہ اپنے دور میں لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ آسمانی کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوتا ہے۔ جس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے لوگوں کی ہدایت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارے گا اس پر دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت برسے گی۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اس لیے بھی مجسمۂ رحمت ہوتی ہے کیونکہ اس کی تلاوت سے اجرو ثواب اور قلبی سکون رکھا ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے آدمی کو مشکلات سے نجات اور آخرت میں عظیم الشان اجر و ثواب سے نوازا جائے گا۔ قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ میں بھی یہ اوصاف کا مل اور اکمل انداز میں پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے آخری کتاب ہے اس لیے جو شخص مشکلات سے نجات، آخرت کا اجر و ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حق دار بننا چاہتا ہے۔ اسے قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر قدم اور ہر لمحہ اس کی رہنمائی کرتے ہوئے اس پر اپنے فضل و کرم کا نزول فرمائے گا۔ بشرطیکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ سے لرزاں و ترساں ہو۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔۔ وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِی مَسْجِدٍ یَتْلُونَ کِتَاب اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہُ بَیْنَہُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَۃُ وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ۔۔)[ رواہ الترمذی : کتاب القرأت عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، باب ماجاء أن القران انزل علی سبعۃ احرف] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔۔ جو لوگ مسجد میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کریں اور با ہم درس وتدریس کریں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں لپیٹ لیتی ہے۔۔“ مسائل ١۔ تورات اپنے دور میں لوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا مرقع تھی۔ ٢۔ قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے۔ جو شخص اس پر عمل کرے گا وہ اللہ کی ہدایت اور اس کی رحمت سے سرفراز ہوگا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہدایت کے حق دار بننے کے لیے جلوت اور خلوت میں اس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرتے ہیں : ١۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بے شک اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ: ١٩٤) ٢۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (البقرۃ: ١٩٦) ٣۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ (البقرۃ: ٢٠٣) ٤۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔ (البقرۃ: ٢٢٣) ٥۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ (البقرۃ: ٢٣١) ٦۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ اللہ تمھارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (البقرۃ: ٢٣٣) ٧۔ اللہ سے ڈر جاؤ جس پر تمھارا ایمان ہے۔ (المائدۃ: ٨٨) ٨۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقلمندو ! تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ: ١٠٠) ٩۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : ١٠٢) ١٠۔ اللہ سے ڈر جاؤ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ: ٧) ١١۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ اور سچی بات کہو۔ (الاحزاب : ٧٠)