يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
وہ منافق مومنوں کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں ڈالا، اور تم (ہمارے متعلق) موقع کے انتظار میں رہے اور شک میں پڑے رہے اور جھوٹی آرزوں نے تمہیں فریب میں مبتلا رکھا، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آپہنچا اور اس بڑے دھوکے باز نے تمہیں دھوکے میں مبتلا رکھا
ف 9 اس دیوار سے مراد وہ دیوار ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی۔ (شو کانی) ف 10 جو آج ہمیں اکیلا چھوڑے دیتے ہو۔ ف 11 کہ کب ہم مسلمانوں پر کوئ آفت نازل ہوتی ہے۔“ ف 12 یعنی تم سمجھتے رہے بس چند دن میں مسلمان تباہ ہوجائیں گے اور اسلام کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔ ف 13 اللہ کے باب میں شیطان کا انسان کو دھوکا دینا کئی طرح سے هوتا هے ۔ایك حدیث میں آنحضرت(ﷺ)نے صراط مستقیم كی مثال ایك سیدھے خط سے بیان فرمائ ہے اور اس کے دائیں بائیں چھوٹے چھوٹے بے شمار خطوط کھینچ کر شیطان کی گمراہیوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔شاہ صاحب لکھتے ہیں“ پل صراط پر کافر نہ چلیں گے۔ وہ پہلے ہی دوزخ میں پڑیں گے مگر جو امت ہے کسی نبی کے سچے یا کچے۔ جب اندھیرا گھیر یگا ایمان والوں کے ساتھ روشنی ہوگی۔ منافق ان کی روشنی میں چلنے لگے وہ شتاب نکل گئے یہ رہے پیچھے پکارتے کہ ہم کو بھی روشنی دو کسی نے کہا کہ پیچھے سے روشنی لائو، وہ پیچھے ہٹے ان کے بیج دیوار کھڑی ہوگئی۔ یعنی روشنی دنیا میں کمائی جاتی ہے وہ جگہ پیچھے آئے۔ (کذا فی الموضح)