سورة مريم - آیت 2
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا
ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد
(اے پیغمبر) تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر جو مہربانی کی تھی یہ اس کا بیان ہے۔
تفسیر اشرف الہواشی - محمد عبدہ لفلاح
ف 8 اس ترجمہ کے مطابق ” زکریا“ کا لفظ ” عَبۡدَهُ“ سے عطف بیان یا بدل ہے اور ” عَبۡدَهُ “ رحمۃ کا مفعول ہے اور حضرت زکریا پر رحمت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت یحییٰ عنایت کئے۔ (شوکانی) حضرت یحییٰ بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :زکریا نجار( بڑھئی) تھے۔ نیز ان کے قصہ کے لئے دیکھئے( سورۃ آل عمران رکوع4)