سورة الكهف - آیت 46

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مال و دولت اور آل اولاد اور دنیوی زندگی کی دلفریبیاں ہیں ( مگر چند روزہ، ناپائیدار) اور جو نیکیاں باقی رہنے والی ہیں تو وہی تمہارے پروردگار کے نزدیک بہ اعتبار ثواب کے بہتر ہیں اور وہی ہیں جن کے نتائج سے بہتر امید رکھی جاسکتی ہے۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 2 حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” رہنے والی نیکیاں بہت کیا کرو۔ ” صحابہ نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں فرمایا : ” اللہ اکبر کہنا لا الہ الا اللہ کہنا سبحان اللہ کہنا الحمد للہ کہنا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔ (مسند احمد) یوں باقی رہنے والی نیکی میں ہر وہ کام آسکتا ہے جس کا ثواب مرنے کے بعد قائم رہتا ہے۔ حدیث میں ہے : اذامات الانسان انقطع عنہ عملہ الامن ثلاث من صدقۃ جاویۃ او علم ینفع بہ اوولد صالح یدعولہ۔ یعنی جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل بند ہوجاتے ہیں صرف تین قسم کے اعمال کا فائدہ اس کو پہنچتا رہتا ہے۔ ہمیشہ جاری رہنے والا صدقہ ایسی علمی یادگار جس سے لوگ فیض حاصل کرتے رہیں۔ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت میں صدقہ جاریہ کی وضاحت مسجد بنانے، مسافر خانہ تیار کرنے، عام استعمال کے لئے کسی صورت میں پانی کا استعمال کرنے سے فرمائی گئی ہے اور علم کا فیض بصورت تدریس و تالیف یا قرآن و سنت کی حفاظت اور ان کی نشرو اشاعت بھی اس میں داخل ہے۔ (کذافی الترغیب)