سورة النحل - آیت 123

ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور پھر (اے پیغمبر) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ (اسی) ابراہیم کے طریقہ کی پیروی کرو ہر طرف سے ہٹا ہوا (صرف دین حق ہی پر کاربند رہنے والا) اور جو مشرکوں میں سے نہ تھا۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 2 یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل چیز نہ یہودیت و نصرانیت ہے اور نہ شرک جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں۔ بلکہ اصل حضرت ابراہیم کی ملت ہے جو خلاص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کے بدولت حرام قرار دی گئیں۔ اس لئے آپ کے لئے پیروی کے لائق اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ (کذافی ابن کثیر)