وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ
اور (دیکھو) اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کردیے (یعنی مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد) اور تمہارے جوڑوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کردیے (کہ ان سے تمہاری زندگی ایک وسیع خاندان کی نوعیت اختیار کرلیتی ہے) نیز تمہاری روزی کے لیے اچھی اچھی چیزیں مہیا کردیں۔ پھر یہ لوگ جھوٹی باتیں تو مان لیتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی حقیقت سے انکار کرتے ہیں؟
ف 5 یعنی ان کا احسان مانتے ہیں کہ ان ہی نے بیماری سے شفا دی، بیٹا دیا یا روزی بخشی۔ ف 6 جو سچا معبود ہے اور تمام احسانات اسی کے ہیں مگر یہ بتوں اور بزگروں کے احسان مانتے ہیں کہ تندرستی بیٹے اور روزی یہ دیتے ہیں حالانکہ یہ سب جھوٹ( باطل) ہے سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کے مشرک شکر گزار نہیں ہوتے۔ (کذافی الموضح )