وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ
اور (دیکھو قیامت کے دن) سب لوگ اللہ کے روبرو حاضر ہوگئے۔ پس ناتوانوں نے سرکشوں سے کہا، ہم (دنیا میں) تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، پھر کیا آج تم ایسا کرسکتے ہو کہ اللہ کے عذاب سے کچھ بچاؤ کردو؟ انہوں نے کہا اگر اللہ ہم پر بچاؤ کی کوئی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے۔ (ہم تو خود بھی عذاب میں پڑے ہوئے ہیں) خواہ جھیل لو، خواہ روئیں پٹیں، ہمارے لیے دونوں حالتیں برابر ہوگئیں، ہمارے لیے آج کسی طرح چھٹکارا نہیں۔
ف 3۔ تمہارے کہنے پر چلتے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اللہ سے کفرکیا۔ ف 4۔ ہم تو خود گمراہ رہے تمہیں سیدھی راہ کیسے لگاتے۔ ف 5۔ حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، دوزخی پہلے رونے پیٹنے کی صلاح کریں گے چنانچہ وہ پانچ سو برس تک خوب روئیں پیٹیں گے لیکن جب دیکھیں گے کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا تو صبر کرنے کی صلاح کریں گے چنانچہ پانچ سو برس تک صبر کئے رہیں گے۔ پھر جب دیکھیں گے کہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کہیں گے۔ İ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَجَزِعۡنَآ أَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٖĬ (قرطبی)۔