سورة الانشقاق - آیت 17

وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور رات کی جو اس نے سمیٹا اس کی

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ الَّيْلِ وَ مَا وَسَقَ: ’’ وَسَقَ ‘‘ ( ض) جمع کرنا اور اٹھا لینا۔ ساٹھ(۶۰) صاع غلے کا ایک وسق ہوتا ہے، اسے وسق کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ غلے کی خاصی مقدار جمع کیے ہوتا ہے۔ ’’ وَ مَا وَسَقَ ‘‘ کے عموم میں تمام آدمی اور جانور آجاتے ہیں، کیونکہ وہ سب دن بھر چلنے پھرنے کے بعد رات کو آرام کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے پر جمع ہو جاتے ہیں۔