أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کی موت آئی جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم تیرے اللہ اور تیرے باپ دادے ابراہیم و اسماعیل و اسحاق کے اللہ کی جو ایک ہے ، عبادت کریں گے اور ہم اسی کے حکم پر ہیں۔ (ف ١)
ان آیات میں بھی یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ مکہ کی تردید ہے جو اپنے آپ کو ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ان کا دین بھی یہودیت، نصرانیت یا بت پرستی تھا۔ قرآن مجید نے بتایا کہ تم ان بزرگوں پر بہتان باندھ رہے ہو، ان کا دین بھی یہی اسلام تھا جس میں توحید اور اخلاص کی تعلیم دی گئی ہے۔