سورة الهمزة - آیت 1

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ہر ایک عیب پکڑنے والے غیبت کرنے والے کی خرابی ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کی وادی ویل، یا ہلاکت و عذاب کی دھمکی ہر اس شخص کو دی ہے جو لوگوں کی عیب جوئی اور منہ پر یا پیٹھ پیچھے غیبت کرتا پھرتا ہے۔ ” ھمزۃ“ سے مراد وہ آدمی ہے جو کسی کی اس کے منہ پر برائی بیان کرتا ہے اور ” لمزہ“ اس کو کہتے ہیں جو کسی کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرتا ہے بعض نے کہا ہے کہ ” ھمزۃ“ وہ ہے ج واپنے عمل اور اشارہ کے ذریعہ کسی کی عیب جوئی کرتا ہے اور ” لمزہ“ وہ ہے جو اپنی زبان کے ذریعہ کسی کی عیب جوئی کرتا ہے۔ مشرکین مکہ میں کچھ ایسے لوگ تھے جن میں خاص طور سے یہ بری صفت پائی جاتی تھی، جیسے اخنس بن شریق وغیرہ یہ لوگ جب مسلمانوں کو دیکھتے تو کبھی زبان سے اور کبھی اشارے سے ان کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن آیت کا حکم عام ہے اور ہر اس آدمی کو شامل ہے جس کے اندر کسی بھی زمان و مکان میں یہ بری صفت پائی جائے گی اور قرآن کریم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے مجموں کے اندر بالخصوص یہ صفت پائی جاتی رہی ہے سورۃ المطففین آیات (٢٩/٣٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (ان الذین اجرما کانوامن الذین امنوا یضحکون، واذا مروابھم یتغامزون) ” گناہ گار لوگ ایمانداروں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے، اور ان کے پاس سے گذرتے ہئے آپس میں آنکھ کے اشارے کرتے تھے۔ “