سورة المدثر - آیت 32

كَلَّا وَالْقَمَرِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

نہیں نہیں ہم کو چاند کی قسم

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧) ابن جریر نے لکھا ہے کہ یہاں کفار قریش کے زعم باطل کی تردید ہے کہ وہ جہنم کے داروغوں کا مقابلہ کریں گے اور ان پر غالب آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : چاند کی قسم اور رات کی قسم جب وہ طلوع فجر کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوتی ہے تم ان فرشتوں پر ہرگز غالب نہ آسکو گے۔ آیت (٣٥) میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے بارے میں خبر دی کہ وہ تو نہایت خطرناک اور ہیبت ناک مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے، اور اس بیان سے مقصد لوگوں کو ڈرانا ہے، اس لئے کہ جہنم ہے ہی ایسی جگہ جس سے لوگوں کو ڈرایا جائے اور آیت (٣٧) میں خبر دی ہے کہ یہ ان لوگوں کو ڈرانے والی ہے جو اللہ کی طاعت و بندگی میں دوسروں پر سبقت لے جانا اور جنت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کو بھی ڈرانے والی ہے جو اللہ کی طاعت و بندگی سے پیچھے ہٹنا اور ہلاکت میں پڑنا چاہتے ہیں یعنی جہنم کا ذکر کر کے مومن و کافر دونوں کو ڈرانے کا کام ہوچکا۔