سورة الحاقة - آیت 1

لْحَاقَّةُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ضرور ہونے والی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) ” الحاقۃ“ سے مراد روز قیامت ہے، اس لئے کہ اس سے متعلق تمام غیب یخبریں اس دن ثابت و متحقق ہوجائیں گی اور خود قیامت کا وجود مستحقق ہوجائے گا اور بندوں کے اعمال کا بدلہ اس دن واجب و ثابت ہوجائے گا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ عرب جب مخاطب کے دل میں کسی اہم چیز کے جاننے کا شوق پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو پہلے اس کا مجمل طور پر ذکر کرتی ہیں، پھر اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ پہلے اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ جس چیز کا ذکر ہو رہا ہے وہ کوئی مہتمم بالشان چیز ہے، پھر اس کا تفصیلی ذکر کیا جائے تاکہ اس کا تصور اس کے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ جائے یہاں بھی قیامت کا ذکر پہلے اجمالی طور پر پھر تفصیلی طور پر اسی مقصد کے لئے آیا ہے۔