سورة الملك - آیت 9

قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

وہ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پاس ڈرانے والا تو آیا تھا ۔ پر ہم نے اسے جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی شئے نازل نہیں کی تم تو بڑی گمراہی (ف 1) میں ہو

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(9)تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں، ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے تھے، لیکن ہم نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلا دیا تھا اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ نے اپنی طرف سے کوئی چیز انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل نہیں کی ہے اور تم بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانے کے نبی کو جھٹلایا اور گزشتہ تمام انبیاء اور کتابوں کو بھی جھٹلایا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تمام رسولوں کو بڑی گمراہی کے ساتھ مہتم کیا۔