سورة الملك - آیت 1

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بڑی برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر شئے پر قادر (ف 1) ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) صفات کے ساتھ متصف کیا ہے اللہ نے فرمایا کہ وہ عظمت و بزرگی والا ہے، اس کی خیر و برکت عام اور اس کا احسان تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ اس کے عظیم ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ عالم بالا اور عالم زیریں کا شہنشاہ ہے، اسی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور وہی تنہا ان میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے عظیم ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس نے اپنے کمال قدرت کے ذریعہ آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔ اس کے عظیم ہونے کی تیسری دلیل یہ ہے کہ اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے، وہی جسے چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے موت دیتا ہے اس کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں اس نے انسانوں کو زندگی دے کر دنیا میں بھیجا اور انہیں خبر دی کہ ان کو موت لاحق ہوگی اور وہ دار فانی سے کوچ کر کے دار آخرت کو سدھاریں گے تو جو کوئی اس دار فانی میں اللہ کے اوامر کو بجالائے گا اور نواہی سے بچے گا، اسے اللہ تعالیٰ دونوں جہان میں اچھا بدلہ عطا کرے گا اور جو کوئی یہاں اپنی شہوتوں کا غلام بن کر زندہ رہے گا اور اللہ کے اوامر کو پس پشت ڈال دے گا، اسے بدترین بدلہ ملے گا۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بڑا زبردست ہے، ہر عزت و بڑائی اسی کے لئے ہے اور تمام مخلوقات کی گردنیں اسی کے لئے جھکی ہوئی ہیں اور وہ اپنے توبہ کرنے والے اور اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والا ہے۔