سورة الواقعة - آیت 17

يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سدارہنے والے لڑکے ان کے پاس لئے پھرتے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧) ان کی خدمت کے لئے ہر دم ان کے اردگرد ایسے لڑکے موجود ہوں گے جو نہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان کی شکلیں بدلیں گی اور نہ وہ مریں گے، بعض کہتے ہیں کہ ہو مسلمانوں کے چھوٹے بچے ہوں گے جو کوئی عمل صالح کرنے سے پہلے ہی مر گئے تھے۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ مشرکین کے بچے ہوں گے اور تیسرای قول جو بعید از امکان نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی جنت میں اہل جنت کی خدمت کے لئے پیدا کرے گا۔ واللہ اعلم وہ بچے اللہ کے ان مقرب بندوں کو انواع و اقسام کے پیالوں میں مختلف قسم کی مشروبات اور شراب بھر بھر کر پیش کریں گے جن سے ان کے کام و دہن غایت درجہ لطف اندوز ہوں گے، جن کے پینے سے انہیں نہ کوئی تکلیف ہوگی، نہ نشہ آئے گا اور نہ ہی ان کی عقل متاثر ہوگی اور وہ بچے انہیں ان کے پسندیدہ پھل پیش کریں گے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں، یہ آیت دلیل ہے کہ آدمی کے لئے پھل چن چن کے کھانا جائز ہے اور اس کی تائید عکراش (رض) والی حدیث سے ہوتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ثرید آیا، تو عکراش برتن کے ہر جانب سے لے کر کھانے لگے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، عکراش ایک جگہ سے کھاؤ پھر آپ کے لئے کھجور لائی گئی تو عکراش اپنے سامنے سے کھانے لگے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پلیٹ سے چن چن کرلینے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عکراش ! جہاں سے چاہو کھاؤ، اس لئے کہ ساری کھجوریں ایک طرح کی نہیں ہیں، اس حدیث کو ترمذی نے روایت کی ہے اور اسے غریب کہا ہے۔ اور وہ بچے ان کی رغبت اور خواہش کے مطابق انواع و اقسام کی چڑیوں کا بھنا اور پکا ہوا گوشت پلیٹ بھر بھر کر پیش کریں گے۔