سورة الزمر - آیت 10

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تو کہہ اسے میرے ایماندار بندو اپنے رب سے ڈرو ۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے ان کے لئے (ہی) نیکی ہے اور اللہ کی زمین چوڑی ہے ۔ صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بےحساب (ف 1) ملتا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩) اس آیت کریمہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی مومنوں کو ہر حال میں اپنے رب سے ڈرنے کی تعلیم دی گئی ہے، آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے وہ لوگو جنہوں نے اللہ کی وحدانیت کی تصدیق کی ہے ! اپنے رب سے ڈرتے رہو، اس کی بندگی کرو، اس کی نافرمانی سے بچتے رہو اور اس کے ساتھ غیروں کو شریک نہ بتاؤ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اس دنیا میں عمل صالح کریں گے، اللہ تعالیٰ آخرت میں انہیں جنت دے گا اور جن پر وطن کی زمین تنگ ہوجائے اور اہل کفر کے ظلم و استبدا کی وجہ سے اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہوجائے، انہیں اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین سے ہجرت کر کے ایسی جگہ چلے جانے کا حکم دیا ہے جہاں وہ بآ انسی اس کی عبادت کرسکیں، انبیاء و صالحین کی یہی سنت رہی ہے سورۃ النساء آیت (٩٧) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھا جروا فیھا) ” قیامت کے دن ایسے لوگوں سے فرشتے کہیں گے : کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟“ بعض مفسرین نے (ارض اللہ) سے مراد جنت لی ہے اور کہا ہے کہ یہاں مقصود مومنوں کو حصول جنت کی ترغیب دلانی ہے۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی بغیر صفت صبر کے ممکن نہیں، اس لئے آیت کے آخر میں صبر کی فضیلت اور اللہ کے نزدیک اس کے عظیم اجر و ثواب کا ذکر کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ترک قوم و وطن کی اذیت برداشت کریں گے اور اللہ کی رضا کی خاطر کڑوے گھونٹ برداشت کریں گے، اللہ انہیں بے حساب اجر و ثواب عطا کرے گا، یعنی جنت دے گا جس کی نعمتیں ان گنت اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہوں گی۔