سورة النمل - آیت 38

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

کہا اے درباریو تم میں کوئی ہے کہ اس عورت کا تخت میرے پاس اس پہلے اٹھا لائے ۔ کہ وہ مسلمان (ف 4) ہوکر میرے پاس حاضر ہوں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

14۔ سلیمان (علیہ السلام) جنوں کے ذریعہ اس کی آمد کی خبر لیتے رہے، اور جب فلسطین سے بالکل قریب آگئی تو انہوں نے اپنے اعیان حکومت سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون اس کا تخت شاہی میرے پاس ان سب کے آنے سے پہلے لا سکتا ہے؟ مفسرین لکھتے ہیں کہ اگر بلقیس اور اس کی قوم کے لوگ ان کے پاس آکر اسلام کا اعلان کردیتے تو ان کے لیے اس تخت کا لینا جائز نہ ہوتا، اس لیے کہا کہ کون ان کے آنے سے پہلے اس کا تخت لا سکتا ہے؟ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ ان کا مقصد بلقیس کے سامنے اپنی نبوت کی دلیل پیش کرنی تھی کہ اللہ نے انہیں یہ قدرت نبوت کی نشانی کے طور پر دی ہے، کہ اس کا تخت فلسطین میں اس کے سامنے موجود ہے، بہت سے مفسرین نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ ان کی یہ بات سن کر ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ یہ کام میں انجام دے سکتا ہوں، اور آپ کی مجلس برخواست ہونے سے پہلے اسے لے آؤں گا، آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس کی قدرت رکھتا ہوں اور اسے بحفاظت و امانت آپ تک لے آؤں گا۔ جن کی یہ بات سن کر آصف بن برخیا نے کہا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور سلیمان (علیہ السلام) کا وزیر تھا، اور جسے اللہ کا وہ اسم اعظم معلوم تھا جس کے ذریعہ اللہ سے مانگنے سے دعا قبول ہوتی ہے، اس نے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کی خدمت میں حاضر کروں گا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ وہ خود سلیمان (علیہ السلام) تھے انہی کے پاس اللہ کی کتاب کا علم تھا، انہوں ہی جن سے کہا کہ اس سے پہلے تو میں اسے لے آؤں گا۔ شوکانی نے پہلے رائے کو ترجیح دی ہے۔ بہرحال پلک جھپکنے سے پہلے وہ عرش سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے آگیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے، ورنہ میرے اندر اس کی طاقت کہاں تھی، اللہ مجھے آزمانا چاہتا ہے کہ میں طاعت و بندگی کے ذریعہ اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا معصیت و نافرمانی کے ذریعہ اس کی ناشکری کرتا ہوں، اور جو کوئی اللہ کا شکر گذار ہوتا ہے تو اس کا فائدہ اسے ہی پہنچتا ہے کہ اس کی نعمت باقی رہتی ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے، تو اللہ اپنے بندوں کے شکر سے یکسر بے نیاز ہے، اس کا محتاج نہیں ہے اور وہ کریم ہے کہ بندوں کے کفر کے باوجود اپنی نعمتیں ان سے نہیں چھینتا ہے۔