سورة الأنبياء - آیت 101

إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے سے نیکی مقرر ہوگئی ہے ، وہ اس سے دور رہیں گے (ف ١) ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٦) کافروں کے بعد اب مومنوں کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ جن لوگوں کے لیے اللہ تالی نے ازل میں نیک بختی اور اعمال صالحہ کے لیے توفیق مقدر کردی ہے، انہیں جہنم سے دور رکھا جائے گا اور اس کی آواز بھی نہیں سنیں گے، وہ تو جنت کے باغوں میں ہوں گے اور اپنی من چاہی چیزیں کھا پی رہے ہوں گے اس میں ہمیشہ کے لئیے رہیں گے اور جب میدان محشر میں جمع ہونے کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا تو ان پر کوئی گھبراہٹ طاری نہیں ہوگی، فرشتے ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھ کر انہیں مبارکباد دیں گے اور کہیں گے کہ یہی وہ تمہاری خوشی کا دن ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا۔ آج تمہیں تمہاری نیکیوں کا اچھا بدلہ دیا جائے گا۔ ابن جریر، طبری، طبرانی اور حاکم وغیرہم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب آیت (٩٨) نازل ہوئی کہ تم اور تمہارے معبود سبھی جہنم کا ایندھن بنیں گے تو عبداللہ بن الزبعری نے رسول اللہ سے کہا، اے محمد ! کیا تم نہیں کہتے ہو کہ عزیز نیک تھے، عیسیٰ نیک تھے، اور مریم نیک تھیں؟ آپ نے کہا، ہاں۔ تو اس نے کہا کہ فرشتے، عیسی، عزیر اور مریم سب کی عبادت کچھ لوگ کرتے ہیں تو کیا یہ سبھی جہنم میں جائیں گے؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ نیک ہیں اور ان کی عبادت ان کی مرضی کے بغیر کی جاتی ہے وہ جہنم کا ایندھن نہیں بنیں گے۔