سورة مريم - آیت 56

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کر ، بےشک وہ سچا نبی تھا (ف ٣) ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٥) نبی کریم سے کہا جارہا ہے کہ آپ ادریس سے متعلق قرآنی آیتوں کی بھی تلاوت کر کے لوگوں کو سنایئے، اس لیے کہ وہ بھی اپنے قول و عمل میں بہت ہی سچے آدمی تھے، اور نبی تھے، اور ہم نے انہیں بہت ہی اونچا مقام پر فائز کیا تھا، شرف نبوت سے نوازا تھا اور اپنے مقرب ترین بندوں میں سے بنایا تھا، ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے انہیں زندہ اٹھا کر ایک بلند مقام یعنی چوتھے آسمان پر پہنچا دیا، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے ثابت ہے کہ وہ چوتھے آسمان پر ہیں، ادریس (علیہ السلام) شیث کے بیٹا اور اور آدم (علیہ السلام) کے پوتا تھے، کہا جاتا ہے کہ آدم کے بعد وہ پہلے رسول تھے۔