سورة الإسراء - آیت 42

قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَّابْتَغَوْا إِلَىٰ ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تو کہہ اگر اس کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسے وہ کہتے ہیں تو وہ سب صاحب عرش کی طرف ومنازعت کی راہ نکالتے (ف ١) ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٩) نبی کریم کو خطاب کر کے کہا جارہا ہے کہ آپ مشرکین سے کہہ دیجیے کہ ان کے کہنے کے مطابق اگر اللہ کے علاوہ کئی اور معبود ہوتے جو انہیں اللہ سے قریب کرتے ہیں تو وہ معبود بھی عرش والے صاحب جلال و کمال اللہ کی رضا کی جستجو میں لگے ہوتے جو سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں اور اگر ایسا ہوتا تو وہ معبود نہ ہوتے، اس لیے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین میں اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جس کی بندگی کی جائے اور جو اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ بنیں، اسی لیے اللہ نے آیت (٤٣) میں فرمایا کہ وہ تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے، اور مشرکین جو کچھ اس ذات واحد کے بارے میں کہتے ہیں اس سے وہ بلند و بالا ہے، اور آیت (٤٤) میں فرمایا کہ تمام آسمان و زمین اور ان میں پائے جانے والی مخلوقات اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اور ان تمام نقائص و عیوب سے اسے بلند و بالا سمجھتی ہیں جنہیں مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور سب کی سب اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ صفت ربوبیت و الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مزید تاکید کے طور پر اللہ نے فرمایا کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے، حیوانات، نباتات، اور جمادات سبھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، لیکن لوگ ان کی تسبیحات کو نہیں سمجھتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اور راغب اصفہانی نے اپنی کتاب المفردات میں اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بڑا ہی حلیم ہے، کفر و تمرد کے باوجود عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا ہے اور وہ بڑا ہی معاف کرنے والا ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی کرتا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اسے معاف کردیتا ہے۔