سورة البقرة - آیت 124

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے وہ باتیں پوری کیں ، تب خدا نے کہا کہ بیشک میں تجھے سارے آدمیوں کا امام (ف ١) (پیشوا) بناؤں گا ، اس نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

182: ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے مختل اوامر و نواہی کے ذریعہ آزمایا، آپ تمام آزمائشوں میں پورے اترے، تو اللہ نے انہیں بطور انعام و اکرام تمام عالم کے لیے توحید کا امام بنا دیا، جب یہ خوشخبری ان کو دی گئی، تو انہوں نے خواہش کی اور دعا کی کہ اے اللہ اس انعام و اکرام میں میری اولاد کو بھی شریک کردے۔ تو اللہ نے ان کی دعا سن لی، جیسا کہ اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے : آیت وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتاب کہ ہم نے ان کی نسل کو نبوت اور کتاب دی۔ العنکبوت : 27۔ لیکن اس استثناء کے ساتھ کہ ظالم لوگ اس وعدہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس میں ایک قسم کی ترگیب ہے ان سب لوگوں کے لیے جو اپنی نسبت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے ہیں کہ اگر وہ دنیا میں عزت، اور آخرت میں جہنم سے نجات چاہتے ہیں تو دین اسلام جو دین ابراہیمی ہے اسے قبول کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا، آیت، ماکان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین۔ ان اولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین امنوا واللہ ولی المومنین۔ کہ ابراہیم یہودی اور نصرانی نہیں تھے وہ تو موحد مسلمان تھے اور مشرکین میں نہ تھے، بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ ابراہیم کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے ان کی اتباع کی، اور یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ ایمان لائے، اور اللہ مومنوں کا دوست (آل عمران : 67 تا 68)۔ 183: حافظ ابن کثیر کے نزدیک راجح قول یہ کہ کلمات سے مراد وہ تمام اوامر و نواہی اور وہ تمام امور ہیں جن کے التزام کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ انتہی، ان میں رب العالمین کے لیے خشوع وخضوع، ہجرت فی سبیل اللہ، آگ میں ڈالا جانا، ختنہ اور بیٹے کی قربانی سر فہرست آتے ہیں۔ 184: ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ نے اس آیت میں ابراہیم (علیہ السلام) کو خبر دی ہے کہ ان کی نسل میں ظالم لوگ بھی ہوں گے۔ آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ ظالم لوگ دوسروں کی امامت کے حقدار نہیں ہوسکتے۔ اس لیے کہ امام کو عدل و انسٓف والا اور عامل بالشریعت ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس سے یہ حکم بھی نکلتا ہے کہ امور شریعت کی ذمہ داری کسی ظالم کو نہیں دی جائے گ۔ اس لیے کہ مسلمان اپنے امام کی پیروی کرتے ہیں اور اگر وہ ظالم یا فاسق ہوگا تو اپنے ماتحت لوگوں کو گمراہ کردے گا۔