سورة الانفال - آیت 50

وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور کاش تو دیکھئے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں ، تو ان کی کمروں میں اور مونہوں پر (آگ کے ہتھوڑے) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جلنے کا عذاب چکھو (ف ١) ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(42) اس کا تعلق بھی انہی کفار قریش سے ہے جو میدان بدر میں مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوئے تھے لیکن بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں کافروں سے مراد وہ ہیں جو میدان میں قتل نہیں ہوئے تھے اور بھاگ کر مکہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ یعنی جب ان کی موت آئی تو فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھو پر کوڑے بر سارہے تھے اور ایک رائے یہ ہے کہ ایسا قیامت کے دن ہوگا جب کفار جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے، حافظ بن کثیر کہتے ہیں کہ اگرچہ اس آیت کا تعلق واقعہ بدر سے ہے لیکن یہ حکم تمام کافروں کو شامل ہے جیسا کہ اللہ نے سورۃ انعام آیت (93) میں فرمایا ہے کہ فرشتے اپنے رب کے حکم سے انہیں مار ہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا یہ تمہارے ہی کئے کا نتیجہ ہے۔