سورة الانفال - آیت 67
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی
نبی کو لائق نہیں ، کہ اس کے پاس قیدی آویں ، جب تک کہ زمین پر (جہادمیں) اچھی طرح خونریزی نہ کرے (ف ٢) ۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو ، اور اللہ آخرت چاہتا ہے ، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔
تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی
اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے