سورة العاديات - آیت 6

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرگزار ہے

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

انسان بڑا ناشكرا ہے: تین باتوں کی قسم: (۱) كنود: ایسے ناشكرے كو كہتے ہیں جو مصائب وآلام كا تو ہر دم ذكر كرتا ہے مگر اللہ كے احسانات كا كبھی نام تك نہ لے۔ یعنی وہ اللہ كا احسان ناشناس ہونے كے علاوہ ہر وقت اللہ كی اس تقدیر یا اپنی قسمت كا شاكی بھی رہتا ہے۔ یعنی اللہ كا احسان فراموش یا نمك حرام۔ (۲) دوسری بات جس پر اللہ نے قسم كھائی كہ انسان اپنی آنكھوں سے دیكھتا ہے كہ گھوڑا اپنے مالك كا اتنا وفادار ہوتا ہے كہ وہ اپنے مالك كی جان بچانے كی خاطر بسا اوقات اپنی جان كو خطرے میں ڈال دیتا ہے مگر انسان اپنے مالك ورازق كے لیے جان ومال كی قربانی تو دركنار اپنے پروردگار كا شكر بھی ادا نہیں كرتا۔ الٹا شكوے شكایت كرتا رہتا ہے۔ (۳) تیسری قسم کہ انسان مال كی محبت میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ مال و دولت كی خاطر وہ حلال وحرام میں تمیز نہیں كرتا، اللہ كی راہ میں خرچ كرنے میں انتہائی بخیل واقع ہوا ہے اور یہ خود اس بات پر شاہد ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ انسان كو دنیا سے بے رغبت كرنے اور آخرت كی طرف متوجہ كرنے كے لیے فرما رہا ہے كہ كیا انسان كو وہ وقت معلوم نہیں جو قریب آرہا ہے كہ جب تمام مردے قبروں سے نكل كھڑے ہوں گے اور جو كچھ باتیں چھپی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی سن لو ان كا رب ان كے تمام كاموں سے باخبر ہے اور ہر ایك عمل كا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے اور ایك ذرہ برابر بھی وہ ظلم روا ركھتا ہے نہ ركھے گا۔