سورة المعارج - آیت 44

خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ان کی آنکھیں نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہوں گی ۔ ان پر ذلت (ف 1) چھارہی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہے جس کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

اسی طرح قیامت والے دن قبروں سے نہایت برق رفتاری سے نكلیں گے۔ مارے شرم وندامت كے نگاہیں زمین میں گڑی ہوں گی جس طرح مجرموں كی آنكھیں جھكی ہوئی ہوتی ہیں۔ چہروں پر پھٹكار برس رہی ہوگی۔ یہ ہے دنیا میں اللہ كی اطاعت سے سركشی كرنے كا نتیجہ! اور یہ ہے وہ دن جس کے ہونے كو آج محال جانتے ہیں اور ہنسی مذاق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی شریعت اور كلام الٰہی كی حقارت كرتے ہوئے كہتے ہیں كہ یہ قیامت قائم كیوں نہیں ہوتی؟ ہم پر عذاب كیوں نہیں آتا؟ الحمد للہ سورئہ المعارج كی تفسیر مكمل ہوئی۔