سورة الأحقاف - آیت 6

وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب آدمی جمع کئے جائینگے تو وہ (معبود) ان کے دشمن ہونگے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

قرآن کریم میں یہ مضمون متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ یونس (۲۹۰)، سورہ مریم (۸۱،۸۲) سورہ عنکبوت (۲۵) وغیرھا من الآیات۔ قیامت کے دن جب یہ سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے۔ اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر دیں گے۔ معبودوں کی قسمیں: دنیا میں ان معبودوں کی دو قسمیں ہیں ایک تو غیر ذی روح جیسے جمادات و نباتات اور مظاہر قدرت (سورج آگ وغیرہ) ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو زندگی اور قوت گویائی عطا فرمائے گا اور یہ چیزیں بول کر بتلائیں گی کہ ہمیں قطعاً اس بات کا علم نہیں کہ یہ ہماری عبادت کرتے اور ہمیں تیری خدائی میں شریک گردانتے تھے۔ معبودوں کی دوسری قسم وہ ہے جو انبیاء علیھم السلام، ملائکہ اور صالحین میں سے ہیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عزیر علیہ السلام اور دیگر عباد اللہ الصالحین ہیں یہ اللہ کی بارگاہ میں اس طرح جواب دیں گے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب قرآن میں منقول ہے۔ علاوہ ازیں شیطان بھی انکار کریں گے جیسے قرآن میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے چنانچہ القصص میں ارشاد ہے کہ: ﴿تَبَرَّاْنَا اِلَيْكَ مَا كَانُوْا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ﴾ ’’ہم تیرے سامنے (اپنے عابدین) سے اظہار برأت کرتے ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔‘‘