سورة الصافات - آیت 10

إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مگر جو کوئی (شیطان کوئی خبر) جھپک کر اچک لے جاتا ہے ۔ تو اس کے پیچھے انگارا لگتا ہے

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ دفعتاً ایک تارہ ٹوٹا اور روشنی ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ’’ دور جاہلیت میں جب ایسا واقعہ ہوتا تو تم کیا کہتے تھے؟ صحابہ کہنے لگے: ’ ہم تو یہی کہتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی مر گیا یا پیدا ہوا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ کسی کی زندگی یا موت کے سبب سے نہیں ٹوٹتا۔ بلکہ ہمارا پروردگار کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ تو حاملان عرش تسبیح کرتے ہیں پھر آسمان والے فرشتے جو ان سے قریب ہوتے ہیں۔ پھر ان سے قریب والے تسبیح کرتے ہیں حتیٰ کہ سبحان اللہ کی آواز ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے۔ پھر چھٹے آسمان والے ساتویں آسمان والوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا۔ وہ انھیں خبر دیتے ہیں اس طرح نیچے آسمان والے اوپر آسمان والوں سے پوچھتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ خبر دنیا کے آسمان تک پہنچتی ہے اور شیطان اُچک کر سننا چاہتے ہیں تو ان کو مار پڑتی ہے اور وہ کچھ بات لا کر اپنے یاروں (کاہنوں) پر ڈال دیتے ہیں وہ خبر تو سچ ہوتی ہے مگر وہ اسے بدلتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں۔ (مسلم: ۲۲۲۹)