سورة النمل - آیت 66

بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم عاجز آگیا ۔ بلکہ وہ آخرت کی نسبت شبہ میں ہیں ۔ بلکہ (ف 1) وہ اس سے اندھے ہیں

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی ان کاعلم آخرت کے وقوع کا وقت جاننے سے عاجز ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین علیہ السلام کے سوال کے جواب میں فرمایاتھاکہ میرااور تیرا دونوں کاعلم اس جواب سے عاجز ہے۔ (مسلم : ۸) چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لیے یہ آخرت کے بھی منکر ہیں، وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں، چنانچہ ارشاد ہے: ﴿اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾ (مریم: ۳۸) ’’جس دن یہ ہمارے پاس پہنچیں گے بڑے ہی دانا و بینا ہوجائیں گے لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہوں گے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ یہ کافر تو شک ہی میں ہیں۔ یہ مضمون سورۂ کہف کی آیت نمبر ۴۸ میں بھی آیا ہے کہ: ﴿وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا﴾’’یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیداکیاتھا، اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں، لیکن تم تو یہی سمجھتے رہے کہ قیامت کوئی چیز ہی نہیں۔‘‘ کافر دنیا اور آخرت کے بارے میں شک میں ہیں،بلکہ اندھے ہیں۔ انھوں نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔