سورة الحجر - آیت 18

إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مگر جو شیطان چوری سے کوئی بات سن گیا اس کے پیچھے چمکتا انگارا لگا (ف ١) ۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

اس کامطلب یہ ہے کہ شیاطین آسمانوں پر باتیں سننے کے لیے جاتے ہیں جن پر شہاب ثاقب ٹوٹ کر گرتے ہیں جن میں سے کچھ تو جل مرجاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں اور بعض سن آتے ہیں۔ ایک حدیث میں آتاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’جب اللہ تعالیٰ کچھ ارشاد فرماتے ہیں تو آسمان پر کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اسے سن کر اپنے پریا بازو پھڑپھڑاتے ہیں (عجز و مسکنت کے اظہار کے طور پر ) گویا وہ کسی چٹان یا زنجیر کی آواز ہے۔ پھر جب فرشتوں کے دلوں سے اللہ کا خوف دور ہوتاہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں۔ ‘‘تمہارے رب نے کیاکہا ہے، وہ کہتے ہیں،اس نے جو کہا حق کہا اور وہ بلند اور بڑاہے ( اس کے بعد اللہ کاوہ فیصلہ اوپر سے نیچے تک یکے بعد دیگرے سنایاجاتاہے۔) اس موقعہ پر شیطان چوری چھپے بات سنتے ہیں اور یہ چوری چھپے بات سننے والے شیطان تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں اور وہ ایک آدھ کلمہ سن کر اپنے دوست، نجومی یا کاہن کے کان میں پھونک دیتے ہیں وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بیان کرتاہے۔ پھر اگر اس کی کوئی بات سچی نکل آئے تو لوگ کہتے ہیں دیکھو اس نجومی نے ہمیں خبردی کہ فلاں فلاں وقت ایسا ہوگا اور وہ بات اگر ہو جاتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں۔ یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی ۔ (بخاری: ۴۸۰۰)