أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
کیا ہم نے انہیں ٹھٹھے میں اڑا دیا تھا یا ان پر ہماری نظر (ف 1) نہیں جمتی ؟۔
(ف 1) کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے مال اور ذہنی دولت پرناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرور تھا ۔ ان کو یقین تھا کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع وفریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ کے نزدیک مسلمانوں کی کیا قدروقیمت ہے ۔ اس وقت یہ محسوس کریں گے کہ یہ محرومی سعادت وفلاح سے محرومی ہے ۔ مگر ﴿وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ فرمایا یہ مکالمہ اور تخاصم جو اہل نار کے مابین ہوگا یہ قطعی اور حتمی ہے ۔ اور اس کو بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور (ﷺ) کو بذریعہ وحی والہام یہ سب کچھ بتلایا گیا ہے ۔ ورنہ انسانی علم کی کوتاہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان احوال وکوائف کے متعلق کچھ نہ جان سکے ۔ حل لغات : سِخْرِيًّا۔ ہدف استہزاء۔