سورة الروم - آیت 47

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ سراج البیان - مستفاد از ترجمتین شاہ عبدالقادر دھلوی/شاہ رفیع الدین دھلوی

اور ہم تجھ سے پہلے کتنے ہی رسول اپنی اپنی قوم کے پاس بھیج چکے ہیں ۔ پھر ان کے پاس معجزات لے کر آئے ۔ پھر ہم نے ان لوگوں سے جو گنہگار تھے بدلہ لیا اور مومنین کی مدد ہم پر لازم تھی۔( ف 3)

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی انبیاء آئے ہیں اور لوگوں نے ان کی حسب عادت مخالفت کی ہے ۔ پھر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی ۔ تو اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات حرکت میں آیا اور ان لوگوں کو سخت ترین سزائیں دی گئیں ۔ ﴿حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانے میں بھی اپنے بندوں کو ذلیل اور رسوا نہیں کرتے ۔ ہر دن اور ہر وقت وہ ان کے لئے اعانت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں کیونکہ ازراہ نوازش وکرم اس چیز کو اللہ نےاپنے اوپر لازم قرار دیا ہے ۔ حل لغات : فَانْتَقَمْنَا:نقمۃ سے مشتق ہے معنی سزا دینا اور وہیں لفظ مقام میں مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔ عربی میں اس مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا ۔