سورة الفجر - آیت 17

كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٧۔ ١ یعنی بات اس طرح نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی اور وہ اپنے اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ ١٧۔ ٢ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں (ابو داؤد)