سورة الرحمن - آیت 39

فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

پھر اس (ف 1) دن آدمی اور جن سے اس کے گناہ کی بابت سوال نہ ہوگا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٩۔ ١ یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان سے باز پرس کی جائے گی، بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ گناہوں کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، کیونکہ انکا تو پورا ریکارڈ فرشتوں کے پاس بھی ہوگا اور اللہ کے علم میں بھی۔ البتہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیے؟، یا یہ مطلب ہے، ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ انسانی اعضا خود بول کر بتلائیں گے۔