سورة ق - آیت 45

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور تو ان پر زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔ سو قرآن سے نصیحت کر جو میرے عذاب کے وعدہ (ف 1) سے ڈرتا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٥۔ ١ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ایمان لانے پر مجبور کریں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، وہ کرتے رہیں۔ ٤٥۔ ٢ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ذکر سے وہی نصیحت حاصل کرے گا جو اللہ سے اور اس کی سزا کی دھمکیوں سے ڈرتا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہوگا اسی لئے حضرت قتادہ یہ دعا فرماتے ' اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر جو تیری وعیدوں سے ڈرتے اور تیرے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے رحم فرما نے والے۔