سورة سبأ - آیت 41

قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ

ترجمہ سراج البیان - مستفاد از ترجمتین شاہ عبدالقادر دھلوی/شاہ رفیع الدین دھلوی

وہ کہیں گے تو پاک ہے ۔ توہی ہمارا کارساز ہے نہ وہ ۔ نہیں بلکہ یہ تو جنوں کو پوجتے تھے ، ان میں سے اکثر ان ہی پر ایمان رکھتے تھے۔

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یعنی فرشتے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی طرح اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کر کے اظہار براءت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا ولی ہے ہمارا ان سے کیا تعلق۔ ** جن سے مراد شیاطین ہیں، یعنی یہ اصل میں شیطانوں کے پجاری ہیں کیونکہ وہی ان کو بتوں کی عبادت پر لگاتے اور انہیں گمراہ کرتے تھے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ﴿إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلا شَيْطَانًا مَرِيدًا﴾ (النساء: 117)۔