سورة النمل - آیت 42

فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

پھر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کہ تیرا تخت (ف 2) ایسا ہی ہے ، بولی گویا یہ وہی ہے اور ہمیں تو اس سے پہلے ہی (تمہارا نبی ہونا) معلوم ہوگیا تھا اور ہم مسلمان ہوگئے تھے

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- ردوبدل سے چونکہ اس کی وضع وہیئت میں کچھ تبدیلی آگئی تھی، اس لیے اس نے صاف الفاظ میں اس کے اپنے ہونے کا اقرار بھی نہیں کیا اور ردوبدل کے باوجود انسان پھر بھی اپنی چیز کو پہچان ہی لیتا ہے، اس لیے اپنے ہونے کی نفی بھی نہیں کی۔ اور یہ کہا (یہ گویا وہی ہے) اس میں اقرار ہے نہ نفی۔ بلکہ نہایت محتاط جواب ہے۔