سورة الفرقان - آیت 63

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر بےپاؤں چلتے ہیں ۔ اور جب ان سے جاہل لوگ باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سلام (ف 2)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٣۔ ١ سلام سے مراد یہاں اعراض اور ترک بحث ہے۔ یعنی اہل ایمان، اہل جہالت سے الجھتے نہیں ہیں بلکہ ایسے موقع پر پرہیز اور گریز کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور بے فائدہ بحث نہیں کرتے۔