سورة مريم - آیت 68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو تیرے رب کی قسم ہم انہیں اور شیطانوں کو اکٹھا کریں گے پھر ہم انہیں گھٹنوں پر گرے ہوئے جہنم کے گرد حاضر کریں گے ۔

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- جِثِيٌّ, جَاثٍ کی جمع ہے جَثَا يَجْثُو سے۔ جَاثٍ گھٹنوں کے بل گرنے والے کو کہتے ہیں۔ یہ حال ہے یعنی ہم دوبارہ انہیں کو نہیں بلکہ ان شیاطین کو بھی زندہ کر دیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا یا جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ان سب کو اس حال میں جہنم کے گرد جمع کر دیں گے کہ یہ محشر کی ہولناکیوں اور حساب کے خوف سے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونگے،حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ابن آدم میری تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ یہ اس کے لائق نہیں۔ ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے حالانکہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس کا میری تکذیب کرنا تو یہ ہے کہ وہ میری بابت یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے ہرگز اس طرح دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جس طرح اس نے مجھے پہلی مرتبہ پیدا کیا حالانکہ میرے لئے پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے (یعنی مشکل اگر ہے تو پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری مرتبہ) اور اس کا مجھے ایذا پہنچانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میری اولاد ہے، حالانکہ میں ایک ہوں، بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ خود جنا گیا ہوں میرا کوئی ہمسر نہیں ہے“۔ (صحیح بخاری۔ تفسیر سورہ اخلاص)۔