سورة الإسراء - آیت 77
سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا
ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی
یہ دستور پڑگیا ہے (ف ١) ۔ ہمارے ان رسولوں کا جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا اور تو ہمارے دستور میں تبدیلی نہ پائے گا ،
تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ
1- یعنی یہ دستور پرانا چلا آرہا ہے جو آپ (ﷺ) سے پہلے رسولوں کے لئے بھی برتا جاتا رہا ہے کہ جب ان قوموں نے انہیں اپنے وطن سے نکال دیا یا انہیں نکلنے پر مجبور کر دیا تو پھر وہ قومیں بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ رہیں۔ 2- چنانچہ اہل مکہ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ رسول اللہ (ﷺ) کی ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد ہی میدان بدر میں وہ عبرت ناک ذلت وشکست سے دو چار ہوئے اور چھ سال بعد 8 ہجری میں مکہ ہی فتح ہوگیا اور اس ذلت وہزیمیت کے بعد وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔