سورة النحل - آیت 70

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تمہیں موت دیتا ہے اور کوئی تم میں ایسا ہے کہ نکمی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (بڈھا بےعقل ہوجائے) بیشک (ف ٢) اللہ جاننے والا قدرت والا ہے ۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٠۔ ١ جب انسان طبعی عمر سے تجاوز کرجاتا ہے تو پھر اس کا حافظہ بھی کمزور ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ عقل بھی ماؤف، اور وہ نادان بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ یہی طویل عمر ہے جس سے نبی نے بھی پناہ مانگی ہے۔