سورة النحل - آیت 9
وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ۚ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
ترجمہ سراج البیان - مستفاد از ترجمتین شاہ عبدالقادر دھلوی/شاہ رفیع الدین دھلوی
اور سیدھی راہ جو ہے خدا پر پہنچتی ہے اور بعض راہ ٹیڑھی بھی ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کرتا ۔ (ف ١)
تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ
* اس کے ایک دوسرے معنی ہیں ”اور اللہ ہی پر ہے سیدھی راہ“ یعنی اس کا بیان کرنا۔ چنانچہ اس نے اسے بیان فرما دیا اور ہدایت اور ضلالت دونوں کو واضح کر دیا، اسی لئے آگے فرمایا کہ بعض راہیں ٹیڑھی ہیں یعنی گمراہی کی ہیں۔ ** لیکن اس میں چوں کہ جبر ہوتا اور انسان کی آزمائش نہیں ہوتی، اس لئے اللہ نے اپنی مشیت سے سب کو مجبور نہیں کیا، بلکہ دونوں راستوں کی نشاندہی کر کے، انسان کو ارادہ واختیار کی آزادی دی ہے۔