سورة الملك - آیت 1

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بڑی برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر شئے پر قادر (ف 1) ہے

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے ۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘ ۔ پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے ، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے ۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُم» ۱؎ (2-البقرۃ:28) ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘ ، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ» ۱؎ (2-البقرۃ:28) ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘ ۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے ، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ } ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے ۔ اچھے عمل والا کون؟ آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے ؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا ، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے ، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے ۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو ۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے ، زیادہ صحیح یہی قول ہے ، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے ، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے ، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے ، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے ۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی ، عیب ٹوٹ پھوٹ ، جوڑ توڑ ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے ؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی ۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے ۔