سورة الانعام - آیت 88

ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

یہ اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ‘ ایسی ہدایت کرے ، اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے اعمال ضائع ہوجاتے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یہاں ہدایت سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے کیونکہ اس عقیدے کے بغیر کوئی عبادت بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔ عقیدۂ توحید کی ضد شرک ہے جو ہر برائی کا منبع، عظیم گناہ اور انتہا درجے کا ظلم ہے اس لیے یہاں اٹھارہ عظیم المرتبت ہستیوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ ہستیاں بھی شرک کا ارتکاب کرتیں تو ان کی زندگی بھر کی عبادت وریاضت ضائع کردی جاتی۔ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ (رض) عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَلَا أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ ثَلَاثًا قَالُوا بَلٰی یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ اَلْإِشْرَاک باللَّہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِءًا فَقَالَ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتَّی قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَت) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ما قیل فی شہادات الزور] ” عبدالرحمن بن ابی بکرہ (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو بڑے گناہ کی خبر نہ دوں آپ نے ان الفاظ کو تین مرتبہ دہرایا صحابہ کرام (رض) نے عرض کی کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور پھر آپ ٹیک چھوڑ کر بیٹھ گئے۔ فرمایا اور جھوٹی بات کہنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کو دہراتے رہے یہاں تک ہم نے سوچا کاش! آپ خاموش ہوجائیں۔“ (عن ابْن عَبَّاسٍ (رض) یَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی نَحْوِ أَہْلِ الْیَمَنِ قَالَ لَہُ إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَی أَنْ یُوَحِّدُوا اللّٰہَ تَعَالَی فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِہِمْ وَلَیْلَتِہِمْ فَإِذَا صَلَّوْا فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ زَکَاۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِیِّہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فَقِیرِہِمْ فَإِذَا أَقَرُّوا بِذٰلِکَ فَخُذْ مِنْہُمْ وَتَوَقَّ کَرَاءِمَ أَمْوَال النَّاسِ)[ رواہ البخاری : کتاب التوحید،] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ بن جبل (رض) کو اہل یمن کی طرف بھیجا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اہل کتاب کی طرف جا رہے ہو سب سے پہلے تم جس بات کی انہیں دعوت دو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک جانیں جب وہ اس کی توحید کے قائل ہوجائیں تو انہیں بتانا۔ اللہ نے ان پر پانچ نمازیں دن اور رات میں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو ان کو بتا نا اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں سے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے۔ جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر ان کے غرباکو دی جائے۔ جب وہ اس بات کا اقرار کرلیں تو ان سے زکوٰۃ وصول کرنا اور ان کے بہترین مال سے بچنا۔“ نواسے بھی آدمی کی اولاد ہوتے ہیں : (عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنْ الْأَسْبَاطِ)[ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین] ” یعلی بن مرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا جو حسین سے محبت کرے گا حسین میری اولاد سے ہے۔“ انبیاء ( علیہ السلام) ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں : (عن ابی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ أَنَا أَوْلَی النَّاس بابْنِ مَرْیَمَ وَالْأَنْبِیَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَیْسَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ)[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء،] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگو! میں ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ مسائل ١۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ایک دوسرے کے بھائی یعنی ایک ہی خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تمام انسانوں سے ممتاز فرمایا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خصوصی ہدایت سے نوازا۔ ٤۔ اگر انبیاء (علیہ السلام) میں سے کوئی بھی شرک کرتا تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔