سورة الانعام - آیت 22

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شریک جن کا دعوی کرتے تھے کہاں ہیں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، منکرین حق کا قیامت کے دن اپنا انجام دیکھ کر جھوٹی قسمیں اٹھانا۔ جو گواہی کی بد ترین قسم ہے۔ ” قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔“ (المعارج، آیت : ٤) اس میں مختلف مراحل ہوں گے اور ہر مرحلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ معبودان باطل اور ان کے عابدوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تاکہ دنیا میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھنے والے لوگوں کے عقیدہ کی قلعی کھل جائے۔ البقرہ آیت ١٦٥ تا ١٦٧ میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ لوگ جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہر قسم کی قوت وسطوت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس یقین کے بعد طالب اپنے مطلوب، تابع اپنے متبوع، مقتدیٰ اپنے مقتدی اور پیر اپنے مریدوں سے بیزاری، کارکن اپنے لیڈروں سے نفرت کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہوئے مطالبہ کریں گے کہ اے خدا ہمارے پیروں اور سرداروں کو دوگنا عذاب دیجیے۔ (الاحزاب : ٦٧۔ ٦٨) جھوٹے رہنماؤں کے پیچھے لگنے والے اس خواہش کا بھی اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں واپس جانے کی اجازت مل جائے تو ہم ان لوگوں سے اسی طرح بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں جیسے آج یہ ہم سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ (البقرہ : ١٦٧) جب ان کی یہ حسرت پوری نہیں ہو سکے گی تو پھر وہ اپنے گناہوں اور شرک کا انکار کرتے ہوئے قسمیں اٹھائیں گے۔ اے اللہ ! تیری ذات کی قسم ! ہم نے کبھی شرک نہیں کیا۔ ان کے انکار کی دو وجوہات ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی ہیبت وجلالت اور گرفت۔ دنیا میں جھوٹی قسمیں کھانے کی عادت کی وجہ سے وہ رب کی بارگاہ میں جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے کہ شاید دنیا کی طرح آج بھی ہم بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں۔ یہ ضرور جھوٹ بولیں گے اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ دیکھیے ! یہ ظالم کس طرح اللہ کے حضور جھوٹی قسمیں کھانے کے ساتھ اپنے آپ پر جھوٹ بولیں گے اور وہ سب کچھ بھول جائیں گے جو دنیا میں مکر و فریب اور افتراء پر دازی کیا کرتے تھے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ اأمَّا قُوْلُہٗ وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ فَإِنَّہُمْ رَأَوْا أَنْہٗ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا أَہْلُ الصَّلَاۃَ، فَقَالُوْا تَعَالُوْا فَلْنَجْحَدْ، فَیَجْحَدُوْنَ، فَیَخْتِمُ اللّٰہُ عَلٰی أَفْوَاہِہِمْ، وَتَشْہَدُ أَیْدَیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہ حَدِیْثًا) [ ابن کثیر] ” مفسّرِقرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس کی یوں تفسیر کیا کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ توحید والوں کے گناہ بخش دے گا اور اس کے لیے کسی کے گناہ معاف کرنا مشکل نہیں۔ مشرکین یہ صورت حال دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک کے علاوہ باقی گناہ بخش رہا ہے آؤ ہم بھی یہ کہیں کہ ہم گناہ گار توہیں لیکن مشرک نہیں۔ جب اپنے شرک کو چھپائیں گے تو ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس وقت مشرکین یہ جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔“ (ابن کثیر) اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہریں لگا دی جائیں گی : (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی أَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَا أَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ أَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُوْنَ) [ یسٓ: ٦٥] ” آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ مسائل ١۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں سے ان کے شرک کے بارے میں پوچھے گا۔ ٢۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کو کوئی جواب نہیں دے پائیں گے۔ ٣۔ مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ساتھ بنائے گئے شریکوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔ ٤۔ قیامت کے دن معبودان باطل کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ تفسیر بالقرآن مشرک اور ان کے معبودوں کا اکٹھا کیا جانا : ١۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ (الفرقان : ١٧) ٢۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اکٹھا کرے گا اور کہے گا یہ ہیں تمھارے معبود۔ (السباء : ٤٠) ٣۔ اس دن اکٹھا کیا جائے گا ظالموں کو اور جن کی یہ عبادت کرتے تھے۔ (الصافات : ٢٢) ٤۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اکٹھا کریں گے اور مشرکوں کو کہیں گے کہاں ہیں تمھارے معبود۔ (الانعام : ٢٢) ٥۔ مشرک اپنے معبودوں کے دشمن بن جائیں گے۔ (الاحقاف : ٦) جھوٹوں کا انجام : ١۔ ان سے کہا جائے گا چکھو، آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ (السجدۃ: ٢٠) ٢۔ یہ آگ ہے جس کو تم جھٹلا تے تھے۔ (الطور : ١٤) ٣۔ دوزخ کا عذاب ہے جھٹلانے والوں کے لیے ہے۔ (المطففین : ١١) ٤۔ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔ (آل عمران : ١٣٧) ٥۔ میری آیات کا انکار کرنے اور جھٹلانے والے دوزخی ہیں۔ (التغابن : ١٠) ٦۔ کافر اور اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے جہنمی ہیں۔ (الحدید : ١٩) ٧۔ جب ان کے پاس رسول آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا عذاب نے ان کو پکڑ لیا۔ (النحل : ١١٣) ٨۔ انھوں نے انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (المؤمنون : ٤٨)