سورة الانعام - آیت 21

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھے ، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ بیشک ظالم لوگ چھٹکارا نہ پائیں گے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور اپنے باطل نظریات کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ظلم ہے۔ شریعت کی نظر میں جھوٹ بولنا انتہائی قبیح گناہ ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں اس وقت بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے جب کوئی شخص اپنے باطل نظریات کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا کر اسے حق ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا شخص نہ صرف پرلے درجے کا کذّاب شمارہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین ظالم سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ذات حق پر جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہی کا راستہ دکھانا انتہائی سنگین جرم ہے۔ ایسے ظالم آخرت میں ہر قسم کی مدد سے محروم ہوں گے اکثر اوقات دنیا میں بھی ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔ منکرین حق اللہ تعالیٰ پر درج ذیل جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ ١۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنا اور ان پر جھوٹا ہونے کا الزام لگانا۔ ٢۔ معبودان باطل کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی خدائی میں شریک کرنا۔ ٣۔ زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا اور پھیلانا کہ ان کی بزرگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے اختیارات میں شریک بنا لیا ہے۔ ٤۔ اپنے گناہوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ایسا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجازت دے رکھی ہے۔ (الاعراف : ٢٨) ٥۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ ہمیں چند دنوں کے سوا جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔ (البقرۃ : ٨٠) ٦۔ یہودیوں کا اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور محب قرار دینا۔ ( المائدۃ: ١٨) ٧۔ یہودیوں کا حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا گرداننا۔ (التوبۃ: ٣٠) ٨۔ عیسائیوں کا حضرت مریم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو خدا کا جز قرار دینا۔ (المائدۃ: ١٧، ٧٢) ٩۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ بولنا اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کرنا۔ (البقرۃ: ٩١) ١٠۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانا اس کے احکام کی صورت میں ہو یا اس کی قدرت کے نشانات کی شکل میں۔ (النساء : ١٥٠) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے بارے افترا پر دازی نہیں کرنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ بولنا بڑا ظلم ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا بہت بڑا ظلم ہے۔ ٤۔ ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن بڑا ظالم کون ہے : ١۔ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ (الکہف : ١٥) ٢۔ اللہ کی آیات کو سن کر اعراض کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (السجدۃ: ٢٢) ٣۔ سچائی کو جھٹلانے والا اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الزمر : ٣٢) ٤۔ اللہ کے گھر میں ذکر کرنے سے منع کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ: ١١٤) ٥۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : ١٤٤) ٦۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ (الانعام : ٢١) ٧۔ اللہ کی مساجد سے روکنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے ؟ (البقرۃ: ١١٤) ٨۔ شہادۃ کو چھپانے والے سے بڑا ظالم کون ہے ؟ (البقرۃ: ١٤٠) ٩۔ اللہ کی آیات سے اعراض کرنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے ؟ (الکہف : ٥٧) ١٠۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (ھود : ١٨)